‏گورنر سندھ عمران اسماعیل کی پاکستان ڈے کے موقع پر مزار قائد پر حاضری
اس موقع پر وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ بھی ہمراہ تھے۔
گورنر سندھ نے بابائے قوم کو خراج تحسین پیش کیا اور مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات درج کئے۔

Governor Sindh Chairs high level meeting at Governor’s House

کراچی (فروری 07)
گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ مہلت دئیے جانے کے باوجود جو صنعتی یونٹس گیس سکشن پمس نہیں ہٹائیں گے ان کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔
یہ بات انہوں نے گورنر ہاوس میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں ایم ڈی SSGC عمران منیار اور زبیر موتی والا کی سربراہی میں کراچی ٹریڈ و انڈسٹری کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی محمود مولوی اور مشیر برائے گورنر سندھ امید علی جونیجو بھی اجلاس میں شریک تھے۔ اجلاس میں دیگر مسائل کے علاوہ بعض صنعتوں کی طرف سے گیس سَکشن پمپس کے استعمال اور اس حوالہ سے حالیہ کاروائی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ واضح رہے گزشتہ دنوں ایس آئی ایل سی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے گورنر سندھ نے بعض صنعتوں میں گیس سکشن پمپ کے غیر قانونی استعمال کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کریک ڈاون کے احکامات جاری کیئے تھے۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ تمام صنعتی یونٹس اپنے طور پر تمام نصب شدہ گیس سکشن پمپس کو فوری طور پر ہٹا دیں۔ انہوں نے مذید کہا کہ متعلقہ صنعتی ایسو سی ایشنز تمام نصب شدہ بھاری سکشن پمپس کو رضا کارانہ طور فوری طور پر ہٹوانے کی ذمے دار ہوں گی، جبکہ ایس ایس جی سی اس ضمن میں صنعتوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرے۔
ایم ڈی SSGC عمران منیار نے اجلاس کو بتایا کہ سَکشن ڈیوائسز کے استعمال سے کراچی میں گیس کی فراہمی کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے، سَکشن بوسٹرز کے ذریعے حاصل کی گئی اضافی گیس ادارے کے میٹرنگ سسٹم اور اس کی پیمائش کی صلاحیت کو بھی متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نشاندہی کیئے جانے والی 189 صنعتی یونٹس میں سے 15 یونٹس کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے گیس کی فراہمی منقطع کی جاچکی ہے۔ انہوں نے مذید بتایا کہ سوئی سدرن نے منقطع کئے گئے ان صنعتی یونٹس کے گیس کنکشن کی بحالی کا عمل ضروری رسمی کاروائی کے بعد مرحلہ وارشروع کر دیاہے۔