گورنرسندھ عمران اسماعیل سے ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیویلپرز کے 15 رکنی وفد کی محسن شیخانی کی سربراہی میں گورنرہاﺅس میں ملاقات
وفد نے کنسٹرکشن انڈسٹری کو درپیش چیلنجز اور دیگر مسائل سے آگاہ کیااور تجاویز بھی پیش کیں
ماضی میں ملک کے دیگر صوبوں کی طرح کراچی سمیت سندھ کے دیگر شہروں کے لئے ریگولرازیشن کی حکمت عملی مرتب کی جائے۔ ریگولرائزیشن پالیسی کے تحت ریگولرائزیشن کمیشن کا قیام ناگزیر ہے۔ وفد کی جانب سے تجویز
کنسٹرکشن کے حوالے سے بلڈنگ این او سی اوراپروول پروسیجرز ون ونڈو آپریشن کے تحت ممکن بنایا جائے۔ وفد کی جانب سے تجویز
ون ونڈو آپریشن پر عملدرآمد سے پروجیکٹ مکمل ہونے پر بلڈرز اور رہائشیوں کو بعد میں کسی بھی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں ہوگا۔ آباد وفد
نسلہ ٹاور کے مکین جس پریشانی سے گذر رہے ہیں اسے انسانی بنیادوں پر دیکھا جائے۔ نسلہ ٹاور کے رہائشیوں کی بحالی کے لئے کوئی حکمت عملی تیار کی جائے۔ آباد وفد
وفد نے وزیراعظم سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا جس پر گورنرسندھ نے جلد ملاقات کرانے کی یقین دہانی کرائی

Governor Ismail launches 11th Cross Country Classic Car Rally

Governor Ismail launches 11th Cross Country Classic Car Rally

گورنرسندھ عمران اسماعیل نے گورنرہاﺅس میں گیارہویں سالانہ کلاسک کار ریلی کا افتتاح کردیا


ریلی میں نایاب اور تاریخی 23 کاریں اور 6 موٹر سائیکلیں شامل ہیں ۔ ملک کا دنیا بھرمیں مثبت امیج اجاگر ہوگا ۔ میڈیا سے بات چیت
کراچی ( نومبر07)
گورنرسندھ عمران اسماعیل نے گورنرہاﺅس میں گیارہویں سالانہ کلاسک کار ریلی کا افتتاح کیا ۔ ریلی میں صوبہ بھر سے 23 نایاب اور تاریخی کاروں سمیت 6موٹر سائیکلیں شریک ہیں اس ریلی کی خاص بات یہ ہے کہ پہلی مرتبہ تاریخی اہمیت کی حامل موٹر سائیکلیں بھی اس ریلی میں شامل ہیں ۔ ریلی کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنرسندھ نے کہا کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی پورے پاکستان کے لئے تاریخی و نادر و نایاب گاڑیوں پر مشتمل ریلی کا انعقاد کیا گیا ہے اور اس کا آغاز گورنر ہاﺅس سے ہورہا ہے اس ریلی میں 1935 ءتک کی نایاب گاڑیاں موجود ہیں اس انتہائی شاندار اور خوبصورت ریلی کے شرکاءخراج تحسین کے مستحق ہیں جو دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت امیج اجاگر کررہے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے یہ جان کر بھی بے حد خوشی ہورہی ہے کہ اس ریلی میں پاکستان کی پہلی خاتون ڈرائیور فوزیہ عماد اپنے بچوں کے ساتھ اس ریلی میں شرکت کررہی ہیں میڈیا اس ریلی کو اجاگر کرے تاکہ دنیا کو معلوم ہوسکے کہ پاکستان کس قدر محفوظ اور کھیلوں کی سرگرمیوں کے لئے آئیڈیل ملک ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں گورنرسندھ نے کہا کہ آٹا کا مصنوعی بحران پیدا کیا جارہا ہے کیونکہ اس وقت لاہور ، راولپنڈی اور پشاور میں آٹا کے 20 کلو کا تھیلا 11سو روپے میں فروخت ہورہا ہے جبکہ کراچی میں یہی آٹا کا تھیلا 14سو روپے سے لیکر 15سو روپے تک فروخت کیا جارہا ہے کسی کو بھی عوام کے بنیادی ضروریات کی اشیاءپر سیاست نہیں کرنی چاہئے اس سے ایک عام آدمی متاثر ہوتا ہے ۔طلب اور رسد کے مسئلہ کو فوری حل کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کے لئے ایف آئی اے کو ہدایت دیدی ہے ۔ ریلی گمبٹ سے ہوتی ہوئی رحیم یار خان پہنچے گی جہاں پرریلی کے شرکاء2دن قیام کریں گے اس دوران لاہور سے آنے والی 20نایاب گاڑیاں بھی اس ریلی میں شامل ہو جائیں گی ۔2روز بعدریلی رحیم یار خان سے لاہور کے لئے روانہ ہوگی ۔ لاہور میں بھی ریلی کے شرکاءتین روز قیام کریں گے اور 14 نومبر کو لاہور میں منعقدہ شور میں ریلی بھی شرکت کرے گی ۔بعد ازاں ریلی اسلام آباد سے ہوتی ہوئی پشاور میں 17نومبر کو منعقدہ شو میں شرکت کرے گی ۔ونٹیج اینڈ کلاسک کار کلب پاکستان کے بانی و صدر محسن اکرام نے بتایا کہ ہر برس کی طرح امسال بھی نایاب گاڑیوں پر مشتمل کار ریلی نکالی جارہی ہے اس ریلی کا مقصد دنیا کو اس بات کا پیغام دینا ہے کہ پاکستان انتہائی محفوظ اور پر سکون ملک ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ 2010ءسے یہ ریلی نکالی جارہی ہے، کورونا وائرس کی وجہ سے اس سالانہ ریلی کو 2020ءمیں منسوخ کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس ریلی میں نادر و نایاب کا ر وں کے علاوہ 5 تاریخی موٹر سائیکلیں 1947ءکی BSA B31،1954 کی Ariel 350 اور 1968ءکی 500 Matchless سمیت دیگر شامل ہیں ۔