وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی ہدایت پر گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کنوینر ایم کیو ایم پاکستان و وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے رابطہ
گورنر سندھ نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو وزیر اعظم کا پیغام پہنچایا کہ تحریک انصاف اور ایم کیو ایم پاکستان کے درمیان باہمی احترام کا رشتہ ہے۔
گورنر سندھ نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی پر واضح کیا کہ تحریک انصاف کی حکومت ایم کیو ایم پاکستان کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے اس کے ساتھ آگے چلنے کی خواہاں ہے اور یہی وزیر اعظم پاکستان کی پالیسی ہے۔
گورنر سندھ نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے کہا کہ مستقبل میں بھی ملک، بالخصوص سندھ کے شہری علاقوں کے مسائل کے حل کے لئے تحریک انصاف ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ مل کر چلنا چاہتی ہے

Governor Sindh addressed the participants of the 21st National Security Workshop of the National Defense University on today in Karachi

Governor Sindh addressed the participants of the 21st National Security Workshop of the National Defense University on today in Karachi

While addressing the participants of the 21st National Security Workshop of the National Defense University on today in Karachi, Governor Sindh Imran Ismail said that unlike in the past, the law and order situation in the country is under control.

He said that the economic, cultural and other activities including development are going at a fast pace.

He further said the government is pursuing a vision of uniform development and prosperity all over the country and in this regard, the federal government has announced a package of Rs. 162 billion for Karachi.

____________________________________________________

شہر میں معاشی، ثقافتی، ترقیاتی سمیت دیگر سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔ گورنر سندھ 

ماضی کے برعکس آج پورے ملک میں امن و امان کی صورتحال بہت بہتر ہے ، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے 21 ویں نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ سے خطاب 

کراچی اکتوبر 10

  گورنرسندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ ماضی کے برعکس آج پورے ملک میں امن و امان کی صورتحال بہت بہتر ہے اور معاشی ، ثقافتی ، ترقیاتی سمیت دیگر سرگرمیاں بھی تیزی سے جاری ہیں یہ سب موجود ہ حکو مت کی کامیاب پالیسیوں کی بدولت ہی ممکن ہو رہا ہے ، حکومت پورے ملک کی یکساں ترقی وخوشحالی کے وڑن پر گامزن ہے اس ضمن میں وفاقی حکومت نے کراچی کے لئے 162 ارب روپے کا پیکج کا اعلان کیا ہے جس کے تحت جاری اور نئے ترقیاتی منصوبوں سمیت پبلک پرائیویٹ پارٹنر شب کے تحت بھی منصوبوں شروع کئے جائے گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنرہاﺅس میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے 21 ویں نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ کے شرکائ سے خطاب میں کیا۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے تحت چار ہفتوں پر مشتمل کورس میں شرکت کرنے والوں میں سینیٹرز ، رکن قومی و صوبائی اسمبلی ، مسلح افواج کے افسران ، سینئر بیوروکریٹس ، سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔ اس موقع پر گورنرسندھ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار پاکستانیوں نے نہ صرف اپنی جانوں کا نذرانہ پیش بلکہ جنگ میں 250 ارب ڈالرز کا نقصان بھی ہوا ہے ، افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان امن معائدہ کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کررہے ہیں تاکہ افغانستان میں مکمل امن قائم ہو سکے ،اپنی پوری کوشش کررہے ہیں کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان کوئی سیاسی حل نکل سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں اٹھا ئے گئے اقدامات کو سختی کے ساتھ مسترد کرتے ہیں اور اقوام متحدہ اور اقوام عالم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے فوری خاتمہ کے لئے بھارت پر دباﺅ ڈالے۔گورنر سندھ نے مزید کہا کہ یو این جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خان کے خطاب سے پوری دنیا میں کشمیر کا اصل مسئلہ بے نقاب ہوا جبکہ کشمیر کے مسئلہ کا حل وہاں کی عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق نکالنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج ، رینجرز ، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی قابل تحسین ہے، شہر کرچی میں جرائم کی شرح دنیا کے دیگر ممالک کے شہروں سے بہت کم ہے۔ گورنرسندھ نے کہا کہ موجودہ حکومت کو بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اس ضمن میں حکومت معاشی اصلاحات یقینی بنارہی ہے جس کے مثبت اثرات مرتب ہورہے جبکہ انکم ٹیکس نیٹ میں بھی اضافہ ہورہا ہے ، معاشی استحکام کے باعث غیریقینی صورتحال میں کمی، اسٹاک مارکیٹ میں تیزی ، کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ میں کمی جبکہ موجودہ تجارتی خسارہ میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کو بنیادی سہولیات کے لئے شب و روز محنت کررہی ہے ، مہنگائی ، بے روزگاری اور دیگر مشکلات عارضی ہیں۔ گورنر سندھ نے کہا کہ شہر کو خوبصورت بنانے اور عوام کو سہولیات کی فراہمی کے لئے جاری میگا پروجیکٹس آخری مراحل میں ہیں، انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے KIDCL کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے SIDCL کا قیام عمل میں لایا گیا جو پورے صوبے میں میگا پروجیکٹس کی تشکیل کے لئے بھی اقدامات اٹھارہی ہے، لوگوں کو صحت کی فراہمی کے لئے صحت کارڈ کا اجراءشروع کیا گیا جس کے تحت فی کس 7 لاکھ 20ہزار روپے تک کی طبی سہولیات حاصل کی جارہی ہیں اور اگر کوئی موذی مرض لاحق ہوگا تو اس کے کارڈ کی رقم دگنا ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کے عدم شمولیت کی بنا پر ابتدائی طور پر صحت کارڈ کو صوبے کے چند اضلاع میں آغاز کیاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں سرمایہ کاری ، سیاحت اور ایکوا اسپورٹس کے وسیع مواقع ہیں ، جبکہ کراچی نادرن بائی پاس کو 2 لائنز سے 6 لائنز تک چوڑا کیا جا رہا ہے اس کے علاوہ لیاری ایکسپریس وے کو ہیوی ٹریفک کے لئے بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ صحت کارڈ کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت صحت کارڈ پروگرام میں وفاق کے ساتھ شامل نہیں۔