برطانیہ میں منعقدہ IMechE UAS Challenge 2019 میں پاکستانی ٹیم کے گرینڈ چیمپیئن سمیت پانچ مختلف ٹیکنیکل اور میڈیا ایوارڈز جیتنے پر گورنر سندھ عمران اسماعیل کی مبارکباد اورٹیم کے لیےخصوصی انعام کا اعلان
طلباء کو مقابلے میں حصہ لینے کے لیے گورنر سندھ عمران اسماعیل نے پانچ لاکھ روپے اپنے خصوصی فنڈ سے جاری کئے تھے۔
پاکستانی نوجوانوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی بہتر طریقے سے رہنمائی کی جائے۔
بین الاقوامی سطح پر ملک و قوم کا نام روشن کرنے والے طلباء ہی پاکستان کے بہتر مستقبل کے ضامن ہیں۔
موجودہ حکومت تعلیم کے فروغ کے لیے خصوصی اقدامات کر رہی ہے۔
تعلیم یافتہ معاشرے کی تشکیل سے ہی ملک کے مسائل کا حل ممکن ہے۔
دنیا میں تیزی سے ترقی کرنے والی قوموں نے تعلیم پر بھرپور توجہ مرکوز رکھی۔
آج کے نئے پاکستان میں تعلیم کے شعبے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔
موجودہ معاشی مسائل سے چھوٹکارہ حاصل کرنے کے لیے تعلیم کو عام کرنا ہوگا
اس ضمن میں موجودہ وفاقی حکومت نے جدید تعلیمی درسگاہوں کی تعمیر کے لیے ایک خطیر رقم مختص کی ہے۔

Governor Imran Ismail speaking at the graduation ceremony of the 25th Senior Management Course at National Institute of Management in Karachi.

Governor Imran Ismail speaking at the graduation ceremony of the 25th Senior Management Course at National Institute of Management in Karachi.

وزیر اعظم کے وژن کے مطابق غربت کے خاتمے کے لیے موجودہ حکومت نے احساس پروگرام کا آغاز کیا، گورنر سندھ کا 25 ویں سینئر مینجمنٹ کورس کے شرکاءسے خطاب
کراچی جون13
گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی (NSPP) اور NIM کراچی ، پاکستان کے دو ایسے ادارے ہیں جہاں پر انتہائی اہمیت کی حامل تربیت فراہم کی جارہی ہے، اعلیٰ معیار کی تربیت اور پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والی فیکلٹی ان اداروں کو ملک بھر میں ممتاز بناتی ہے، محدود وسائل میں انسٹیٹیوٹ کی موجودہ انتظامیہ تربیت کے معیار کو مزید بڑھا رہی ہے جو کہ قابل ستائش ہے، میرٹ کی بالادستی اور کرپشن سے پاک معاشرے کی تشکیل میں سول سرونٹس کا کلیدی کردار اہمیت کا حامل ہے ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل انسٹیٹوٹ آف مینجمنٹ کراچی میں 25 ویں سینئر مینجمنٹ کورس مکمل کرنے والے افسران سے خطاب کے دوران کیا۔ گورنرسندھ نے کورس مکمل کرنے والے افسران کو مبارک دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی حکومت پالیسی تشکیل دیتی ہے اور اس پر متعلقہ افسران ہی عملدرآمد کراتے ہیںاس ضمن میں افسران کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں حکومتی پالیسی کا مکمل عزم،محنت اور پیشہ ورانہ طریقہ سے نفاذ ہر صورت یقینی بنائیں جبکہ افسران اپنے تجربہ اور قابلیت کی بنیاد پر مسائل کے حل کے لئے فیصلے فوری جاری کریں کیونکہ تاخیر سے مسائل جنم لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورس مکمل کرنےوالے افسران پیشہ ورانہ مہارت ، اہلیت اور تجربہ سے وفاقی و صوبائی سطح کے مسائل کے حل میں اپنا کردار مزید موثر انداز سے ادا کرسکیں گے۔ گورنر سندھ نے کہا کہ ہماری زندگی کے تین مرحلے ہوتے ہیں اور ہم سب اس وقت اس مرحلے میں ہیں جہاں ہم آنے والی نسلوں کے لیے کچھ کر سکتے ہیں، تاکہ آئندہ آنے والی نسلوں کو قرضوں میں ڈوبا ہوا ملک کے بجائے روشن پاکستان ان کے حوالے کرسکےں، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب مل کر ملک کی ترقی و استحکام میں اپنا حصہ ڈالیں۔ گورنر سندھ نے کہا کہ وزیر اعظم کے وژن کے مطابق غربت کے خاتمے کے لیے موجودہ حکومت نے ہیلتھ کارڈ کا اجراءکیا جس کے ذریعے 7 لاکھ روپے سے زائد رقم سے طبی سہولیات حاصل کی جاسکیں گی جبکہ روزگار، تعلیم اور دیگر سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے احساس پروگرام کا بھی آغاز کیا جارہا ہے۔ گورنر سندھ نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں بڑے لوگوں پر ہاتھ ڈالنا آسان کام نہیں تھا مگر آج کے نئے پاکستان میں احتساب بلاتفریق کیا جارہا ہے۔ اس سے قبل چیف انسٹرکٹر اکرام علی نے بتایا کہ کورس میں وفاقی ، صوبائی اور آزاد کشمیر کے 19 گریڈ سے 20 گریڈ میں جانے والے 50 افسران شریک ہوئے ،16 ہفتوں کے کورس میں افسران کو عصر حاضر کے چیلنجز سے نبر د آزما ہونے ، عوامی مسائل کے حل بہتر نظم و نسق کو یقینی بنانے اور حکومت کی پالیسی کے نفاذ کے ضمن میں تربیت دی گئی۔ اس موقع پر NIM کے ڈائریکٹر جنرل محسن چاندنہ ، فیکلٹی اور دیگر افسران موجود تھے۔