گورنر سندھ عمران اسماعیل کا این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے 28 ویں کانووکیشن کی پروقار تقریب سے خطاب
ادارے کے فارغ التحصیل طلبا نہ صرف پاکستان سمیت دیگر ممالک کے اہم عہدوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
موجودہ حکومت کی بہترین معاشی پالیسی کے ثمرات عوام تک پہنچنا شروع ہوگئے۔
بین الاقوامی معاشی ادارے کی رپورٹ کے مطابق 2024ءمیں دنیا کی 70 فیصد معیشت کادارومدار جن 20 ممالک پر ہوگا اس میں پاکستان بھی شامل ہے۔
ہنر مند اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے لئے کامیاب نوجوان پروگرام کا آغاز کیا۔
جس کے تحت نوجوان انٹرپرینیورز کو آسان شرائط اور بلا سود قرضے فراہم کئے جارہے ہیں۔
کاروبار میں آسانیاں فراہم کرنے والے ممالک کی درجہ بندی میں کئی درجے بہتری ظاہر کرتی ہے کہ موجودہ حکومت پر بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا ہے۔
این ای ڈی کا سی پی ای سی یونیورسٹیوں کے کنسورشیم کے ذریعہ چینی شہر کی نامور جامعات کے ساتھ قریبی روابط کا قائم ہونا خوش آئند امر ہے۔
ہمارے ملک کی ترقی کا دارومدار جامعات سے فارغ التحصیل ہونہار ، قابل اور با صلاحیت طلباءو طالبات کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
یونیورسٹیز اعلی تعلیم ، تحقیق اور ترقی کے مراکز ہوتے ہیں جن کا براہ راست اثر قومی معیشت پر پڑتا ہے۔
این ای ڈی یونیورسٹی نے قومی چیلنجوں کو مدنظر رکھتے ہوئے واٹر انسٹی ٹیوٹ کا قیام عمل میں لایا
قومی انکیوبیشن سینٹر کا قیام بھی عمل میں لایا جو کہ تخلیقی کاموں کے حوالے سے ایک بہترین پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔
فارغ التحصیل طلبا اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا بھرپور حصہ ڈالیں۔
حکومت این ای ڈی یونیورسٹی کو تعلیمی منصوبوں ، تحقیق اور ترقیاتی پروگرامز میں مدد فراہم کرنے میں معاونت جاری رکھے گی۔ گورنر سندھ کی یقین دہانی
اس موقع پر وفاقی وزیر برائے تعلیم و پروفیشنل ٹریننگ شفقت محمود، چیئرمین پاکستان انجینئرنگ کونسل انجینئر جاوید سلیم قریشی، طلباو طالبات اور ان کے والدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
جلسہ تقسیم اسناد2019 میں 13طالب علموں کو ڈاکٹریٹ کی سند سے نوازا گیا۔ وائس چانسلر
27طالبا و طالبات میں گولڈ میڈلز تقسیم کیے گئے۔ ڈاکٹر سروش حشمت لودھی
جامعہ این ای ڈی سے اس برس پاس آؤٹ گریجویٹس کی تعداد 2113 جبکہ ماسٹرز کی تعداد 843 ہے۔ وائس چانسلر

A four-member delegation of Malaysian Associates called on Governor Imran Ismail today at Governor House in Karachi.

A four-member delegation of Malaysian Associates called on Governor Imran Ismail today at Governor House in Karachi.

گورنر سندھ عمران اسماعیل سے ملائیشین ایسوسی ایٹس کے چار رکنی وفد نے گورنر ہاﺅس میں ملاقات کی۔ شرکاءنے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کو مزید فروغ دینے، تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ کی اہمیت سمیت دیگر باہمی دلچسپی کے حامل امور پر تبادلہ خیال کیا۔ گورنر سندھ نے کہا کہ موجودہ حکومت بیرونی سرمایہ کاری اور تجارت کے فروغ کے لئے ہر ممکن اقدامات کو یقینی بنارہی ہے اس ضمن میں کاروبار کرنے میں آسانیاں پیدا کی جارہی ہیں تاکہ درپیش مسائل اور رکاوٹوں کو فوری دور کیا جاسکے۔ عمران اسماعیل نے وفاقی حکومت کی جانب سے عوامی بہبود کے لئے شروع کئے گئے منصوبوں ، کراچی انفرااسٹر کچر کی بحالی، ماس ٹرانزٹ کی بہتری، صاف پانی کی فراہمی سمیت دیگر منصوبوں کے بارے میں وفد کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔ گورنر سندھ نے کہا کہ پاکستان میں سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کی وسیع گنجائش موجود ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک کے ٹورز آپریٹرز باہمی تعاون سے پاکستان میں موجود سیاحتی مقامات کے بارے ایک دوسرے کی عوام کوآگاہی فراہم کریں۔ اس موقع پر وفد کی جانب سے تعاون کی یقین دہانی پر گورنر سندھ نے کہا کہ باہمی کاوشوں کا حسین امتزاج یقینی طور پر پاکستان کی موجودہ صورت حال کو بہتری و تبدیلی کی جانب گامزن کرے گا جو کہ درحقیقت حکومت پاکستان کا مشن و اولین مقصد ہے۔ ملائیشین وفد نے گورنر سندھ کو بتایا کہ ان کے دورے کا اولین مقصد پام آئل سے منسلک مقامی صنعتکاروں کے باہمی تعاون سے اس سیکٹر میں مزید سرمایہ کاری کرنا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ کےلئے کئے گئے حکومتی اقدامات پرکشش ہیں اس ضمن میں ملائیشین سرمایہ کار بھی اپنی مصنوعات کی درآمد کو مزید بڑھانے کے خواہاں ہیں۔گورنر سندھ سے ملائیشین ایسوسی ایٹس کے چار رکنی وفد کی گورنر ہاﺅس میں ملاقات